لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچوں کی شادیاں کرنے والوں کیخلاف کارروائی کاحکم دیدیا۔اس میں زیادہ تر لڑکی کا باپ یا بھائی اپنے فائدے اور لالچ کے لیے اپنی کم سن بیٹی یا بہن دوسروں کے حوالے کردیتے تھے اور ان سے پیسے یا جائیداد حاصل کرلیتے تھے -بعض اوقات تو بچی اتنی چھوٹی ہوتی تھی کہ اس کو شادی کے نام کے بارے میں علم بھی نہیں ہوتا تھا –
آج لاہور کی عدالت نے ایک بڑا فیصلہ دے دیا – جسٹس انوارالحق نے کم عمر بچوں کی شادیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کم عمر بچوں کی شادیاں کرنے والوں کیخلاف کارروائی کاحکم دیدیا۔عدالت نے محکمہ بلدیات کوکم عمر بچوں کی شادی کیخلاف قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ کم عمر شادی کرنے والے دلہا، نکاح رجسٹرار اور گواہوں کیخلاف بھی کاررروائی کی جائے،عدالت نے سیکرٹری بلدیات کو احکامات پر عملدرآمد رپورٹ 19 جون کو پیش کرنے کاحکم دیدیا۔
عدالت نے استفسارکیا کہ بتایا جائے کم عمر بچوں کی شادیوں کیخلاف کتنی شکایات آئیں، کیا کارروائی ہوئی ؟عدالت نے اس بات کا بھی اظہار کیا اور کہاکہ کم عمر بچوں کی شادیوں پر چاول کھانے آنے والے باراتیوں کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے ،کم عمر بچوں کے نکاح رجسٹرڈ کرلئے جاتے ہیں، تاریخ پیدائش نہیں دیکھی جاتی ۔