+وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے مذاکرات کی کوئی پیشکش نہیں کی۔ تاہم مخلوط حکومت پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے ۔انسداد منشیات کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت کے ارکان کے خلاف جعلی مقدمات بنائے گئے لیکن اب عدالتیں من گھڑت مقدمات کو ختم کرکے انصاف فراہم کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے گزشتہ سات ماہ سے حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں اور ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے نواز شریف سے پاکستان واپس آنے اور اگلے عام انتخابات سے قبل پارٹی کی قیادت کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تین بار کے وزیر اعظم نے درخواست قبول کر لی اور جلد ہی عوام اور پاکستان میں ہوں گے۔ جہاں تک اقتصادی محاذ کا تعلق ہے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ حکومت ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی لیکن اپوزیشن نے اس معاملے کو ’سیاست‘ کی نظر کردیا ہے
رانا ثناء اللہ گزشتہ روز انسداد منشیات فورس کی جانب سے 2019 میں اپنے خلاف درج کیے گئے منشیات فروشی کے مقدمے میں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے درخواست جمع کراتے ہوئے کہا کہ مقدمات ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا اسے خارج کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف مقدمہ من گھڑت ہے اور انتقامی کاروائی ہے ، انھوں نے عدالت سے اپنے خلاف الزامات بنایا جائے والا من گھڑت مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کی ۔ گزشتہ جولائی میں، فواد چوہدری نے ایک ٹاک شو میں اعتراف کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے بڑے رہنما کے خلاف منشیات کی سمگلنگ کا مقدمہ من گھڑت ہے اور اسے درج نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ یکم جولائی 2019 کو، مسٹر ثناء اللہ کو اے این ایف لاہور کی ٹیم نے فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے موٹر وے پر راوی ٹول پلازہ کے قریب سے گرفتار کیا، ان کی گاڑی سے 15 کلو گرام ہیروئن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔جس پر ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 186,189 اور 353 اور کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنس ایکٹ (CNSA) 1997 کے سیکشن 15, 17 کے تحت درج کیا گیا تھا۔اور انہیں کئی ماہ اس کیس میں جیل میں بھی گزارنے پڑے تھے