استادالشعراء ، حکیم سید ساغر مشہدی ، کبیروالا ( خانیوال) میں 78 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
سید ساغر مشہدی صاحب جالندھر (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپکا خاندان ہجرت کر کے تلنبہ( پاکستان) میں آباد ہوا۔
آپ ملازمت کے سلسلے میں کراچی بھی رہے اور بعد ازاں کبیر والا (خانیوال) میں مستقل سکونت اختیار کی۔

آپ اپنے وقت کے مشہور شاعر ہیں۔
بطورِ خاص رباعی اور مسدس میں آپکا کام نمایاں ہے۔
آپ نوحہ خواں بھی تھے۔
آپکا خاندان اہلِ بیت کا خاندان تھا اور آپ محمدﷺ و آلِ محمدﷺ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔
آپ کو موسیقی کا علم ازبر تھا۔
خود اپنی غزلیں اور نوحے کمپوز کیا کرتے اور گایا کرتے۔
پاک و ہند میں مشاعرے کی قدیم روایت کے شعراء اپنا کلام گا کر پیش کیا کرتے تھے۔
آج کے دور میں تو مشاعروں میں شعراء اپنا کلام تحت الفظ میں سناتے ہیں لیکن ساغر صاحب اکثر فرمائش کے طور پر اپنا کلام گا کر بھی سنایا کرتے تھے۔

ساغر صاحب مولانا طارق جمیل صاحب کے کلاس فیلو بھی تھے اور مشہور شاعر جناب فیصل عجمی کے ہم عمر اور دوست بھی تھے۔
کبیر والا میں ساغر صاحب کا ایک ہی دوست ہے جن سے روزانہ شام کے وقت ملاقات ہوا کرتی۔
اس دوست کا نام فیصل ہاشمی ہے۔
فیصل ہاشمی خود بھی بہت با کمال شاعر ہیں اور ساغر صاحب فیصل ہاشمی سے خصوصی محبت رکھتے تھے۔
فیصل ہاشمی کے بقول دو دن پہلے ساغر صاحب انکے ساتھ حسبِ معمول خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ انکی طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی۔
فیصل ہاشمی انہیں ہسپتال لے گئے اور کچھ دیر کے بعد انکی طبیعت بظاہر سنبھل گئی۔
اگلے دن ساغر صاحب کے بیٹے نے خبر دی کہ وہ انہیں نشتر ہسپتال ملتان لے گئے ہیں اور انکی طبیعت زیادہ خراب ہے۔

انکے بیٹے نے بتایا کہ ساغر صاحب کو برین ہیمرج ہے۔
فیصل ہاشمی صاحب کا مجھے فون آیا تو انہوں نے نہایت پریشانی کا اظہار کیا اور ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
آج صبح معلوم ہوا کہ قریب 12 بجے ساغر صاحب اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سوگوار کر گئے۔
ساغر صاحب سے میری دو ملاقاتیں ہیں۔
ساغر صاحب انتہائی خوش مزاج، معصوم اور بے ضرر آدمی تھے۔
اپنی ہی دھن میں مست اور دوستوں سے محبت کرنے والے۔
ساغر صاحب نہایت خوش خوراک تھے اور صحت کا یہ عالم تھا کہ 78 برس کی عمر میں بھی 50 سے زیادہ کے نہیں لگتے تھے۔
آپکی مسدس کی کتاب ماحی 1986 میں منظرِ عام پر آئی۔

ساغر صاحب نے ایک شعر اپنے دو بھائیوں کی یکے بعد دیگرے موت کے بعد کہا تھا جو آج انکی جدائی کے وقت انہی کے لیے لکھ رہا ہوں۔۔۔
پہلے چراغ کا دھواں ساغر ابھی فضا میں تھا
اک اور چراغ بجھ گیا میری نظر کے سامنے
ساغر صاحب کی مسدس کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔۔
اسرارِ خفی اور جلی کھول رہے تھے
جب گنبدِ آفاق میں ہم بول رہے تھے

جب میری ان سے دوسری ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہم دوستوں (فیصل ہاشمی، ذیشان حیدر، حافظ محمد نعیم) کی فرمائش پہ اپنی ایک غزل ترنم میں سنائی جس کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔۔
نازشِ سنگ کا نہیں یہ دور
حوصلہ ہے تو پھول مار مجھے
دعا ہے کہ اللہ تعالی انکے درجات بلند فرمائے اور انکے اہلِ خانہ اور دوستوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

سنگ بازروں کا کوئی دوش نہیں ہے ساغر
آئینہ لوگ تھے ہم ہو گئے کرچی کرچی