ایک مرتبہ پھر پاکستان کے چاروں صوبے شدید گرمی کی لپیٹ میں آگئے ،جس کی وجہ سے ائیرکنڈینشنرز ،کولرز اور پنکھوں کے استعمال میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوگیا اور اس کے نتیجے میں بجلی کی کھپت کئی گنا بڑھ گئی -جس کی وجہ سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا اور بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 419 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔
اس وقت ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار 500 میگاواٹ ہے اور بجلی کی پیداوار 19 ہزار 81 میگاواٹ ہے، پن بجلی ذرائع سے 6 ہزار 95 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 657 میگا واٹ بجلی پیدا کررہے ہیں، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 7 ہزار 565 میگاواٹ ہے، اسی طرح ونڈ پاور پلانٹس سے ایک ہزار 206 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔سولر پاور پلانٹس سے 198، بگاس سے 141 اور نیوکلیئر پاور پلانٹس 3 ہزار 222 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ بجلی کی کھپت اور پیداوار میں فرق بڑھ جانے کے بعد ملک بھر میں 6 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے جبکہ لائن لاسز والے علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔
ادھر لاہور شہر کے مختلف علاقوں میں ٹرانسفارمر جلنے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث گھنٹوں بجلی بند رہنا معمول بن گیا، لیسکو کا عملہ جون میں ریکوری کرنے میں مصروف ہے جبکہ صارفین خوار ہو رہے ہیں۔ لیسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں روزانہ درجنوں ٹرانسفارمر جل رہے ہیں اور ٹرانسفارمر جلنے کے بعد 8 سے 10 گھنٹے بجلی کی بحالی نہیں ہوتی۔شدید گرمی میں لیسکو کی بجلی کی طلب 3500 میگاواٹ سے زائد ہے اور این پی سی سی کی جانب سے لیسکو کو 3400 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے، لیسکو کو 100 میگا واٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ پاکستانیوں کو اس جہنم جیسی گرمی میں ابھی مزید چند روز ایسے ہی کرب کی حالت میں گزارنا ہوں گے –
ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 419 میگاواٹ تک پہنچ گیا
24