ایران میں ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت کے بعد خالی ہونے والی صدر کی سیٹ پر عوام نے مسعود شکیان کو بٹھا دیا -پہلی بار الیکشن میں 50 فیصد ووٹ نہ لینے کے سبب الیکشن کو دوسری متبہ پھر کنڈکٹ کیا گیا جس میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے 2 امیدواروں میں مقابلہ ہوا -جس کے نتیجے میں اصلاح پسند مسعود پزشکیان ایران کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کی کامیابی کو ملک میں تبدیلی کی بڑی لہر سے تعبیر کیا جارہا ہے کیونکہ رجعت پسند اور انتہائی رجعت پسند عناصر کئی عشروں سے ایوانِ اقتدار میں تھے۔
صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ بہت کم رہا تھا۔ایرانی الیکشن کمیشن نے اصلاح پسند مسعود پزشکیان کی فتح کا اعلان کردیا ہے۔ اُن کے بارے میں یہ قیاس آرائی بھی گردش کرتی رہی ہے کہ اُنہیں اسٹیبلشمنٹ لائی ہے۔ تین کروڑ ووٹوں میں سے مسعود پزشکیان کو ایک کروڑ 70 لاکھ جبکہ سعید جلیلی کو ایک کروڑ 10 لاکھ ووٹ ملے۔پہلے مرحلے میں بھی مسعود شکیان نے سعید جلیلی سے 10 لاکھ ووٹ زائید حاصل کیے تھے -تاہم اس بار انھوں نے اپنے حریف سے 60 لاکھ زیادہ ووٹ لیے –
مئی میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کے جاں بحق ہونے کے بعد ایران میں قبل از وقت صدارتی انتخاب ہوا ہے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان محسن اسلامی نے بتایا ہے کہ دوسرے مرحلے میں ٹرن آؤٹ 49.8 فیصد رہا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بھرپور جوش و خروش کے ساتھ پولنگ میں حصہ لیں تاکہ ملک کی قیادت اُن کے حقیقی نمائندے کے ہاتھ میں ہو۔ علی خانہ ای نے پہلے مرحلے میں کم ٹرن آؤٹ پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔جس پر ایرانی عوام نے لبیک کہا اور کھل کر ووٹ ڈالا –