تحریک انساف کے رہنما اور یوٹیوبر شہباز گل کے بھائی کو چند روز قبل اغوا کرلیا گیا تھا جس پر ورثاء نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر عدالت کے استفسار پر اداروں کی جانب سے جواب آگیا -مگرپولیس کی جانب سے دیے گئے اس جواب سے عدالت مطمئن نہ ہوئی اور لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی طلبی کا عندیہ دے دیا جبکہ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب کو کل طلب کرلیا ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت میں درخواست گزار کے وکیل سمیت متعلقہ حکام پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت مغوی کی بازیابی کے لئے سینئر پولیس افسران کی تقرری کا حکم دے، غلام شبیر کو اسلام آباد جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لیا، شہباز گل کے بھائی کی جان کو بھی خطرہ ہے۔دوران سماعت عدالت نے پولیس کی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے حکم دیا کہ کل مغوی کو اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعلیٰ کو بھی طلب کیا جائے گا، جبری گمشدگیاں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، حکومت پنجاب اس حوالے سے اپنا پالیسی بیان دے، یہ کیا طریقہ ہے کہ کیسز سے ضمانت ملے تو اسے اٹھا لو۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب کو کل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ 14 جون کو عدالت نے شہباز گل کے بھائی غلام شبیر کو اسلام آباد جاتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا تھا جنہیں آج تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا –
لاہور ہائیکورٹ کا شہباز گل کے بھائی کے کیس میں مریم نواز کی طلبی کا عندیہ
30