آج اڈیالہ جیل سے اپنے پیغام میں عمران خان نے ایک بار پھر شہباز حکومت کے حوالے سے کہا کہ ان کے پاس کوئی حکومت چلانے اور معیشت سنبھالنے یا دہشتگردی کو کنٹرول کرنے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے- اڈیالہ جیل سے جاری اپنے بیان میں سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہمیشہ سے تحریک انصاف کی پالیسی رہی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی میں بڑی کمی آئی، ہم نے خیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور اس کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی، ہم نے خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور قیام امن کیلئے خود بھی افغانستان کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے انخلا کے بعدافغانستان میں سول وار کا شدید خدشہ تھا جسے نہایت حکمت سے ہینڈل کیا گیا، انھون نے فوج کے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی تعریف کی اور کہا کہ افغانستان میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد اس حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں جنرل فیض حمیدکا کلیدی کردار تھا،
عمران خان کہتے ہیں کہ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ جنرل باجوہ نے محض اپنے ذاتی فائدے کیلئے ملک کا بے حد نقصان کیا فیض حمید کی تبدیلی بھی اسی وجہ سے ہوئی کیونکہ وہ ایکسٹینشن کےلیے نواز شریف کی جانب ہاتھ بڑھاچکے تھے ، انھوں نے ایک بار پھر اس بار پر دکھ کا اظہار کیا کہ آئی ایس آئی جس نے ملک کو دہشت گردی سے بچانا تھا اسے دہشت گردی کے انسداد سے ہٹا کر تحریک انصاف کو کچلنے پرلگا دیا گیا، اسی طرح پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خارجہ نے پوری دنیا کا چکر لگایا لیکن افغانستان نہیں گیا کیوں کہ ان لوگوں کو پاکستان کے امن، ہمارے لوگوں کے جان و مال اور ہمارے سکیورٹی اداروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہ تھی، آج بھی ان کے پاس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی واضح حکمت عملی موجودنہیں جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ملک و قوم نقصان اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور میں ریاست کے اداروں کو سیاست سے پاک کر کے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا تو ملکی اور غیر ملکی ناقدین نے ہائبرڈ سسٹم کی اصطلاح ایجاد کی اور ہمیں ہدفِ تنقید بنایا، مگر آج ہمیں ہائبرڈ سسٹم کا طعنہ دینے والے ہمارے ناقدین بھی کھل کر ملک پر بدترین شخصی آمریت کے غلبے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل عوام کے مینڈیٹ کے احترام، قانون کی حکمرانی اور سیاست کے استحکام سے وابستہ ہے، ، قوم کی مرضی کے برعکس فیصلے کرنے اور طاقت اور بندوق کے زور پر انہیں عوام سے منوانے کی کوششوں نے ہمیشہ منفی نتائج پیدا کئے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستانی عوام آپ کے ساتھ نہ ہو آپ کسی بھی کام میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے –
قوم کی مرضی کے برعکس فیصلوں کا ہمیشہ نقصان ہی ہوا :عمران خان
29