پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو جو ہمیشہ قانون اور آئین کی بات کرتے رہےہین آج یو ٹرن لے گئے – اور وہ آج فوج اور عدلیہ پر خوب گرجے برسے -انھوں نے فوج کے سابق سربراہوں اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹسز کو بھی نہ بخشا اور سب کا نام لے لے کر تنقید کی –
عدالتی اصلاحات سے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کی شق وار منظوری کے حوالے سے بحث کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاشا آیا چلا گیا ، ظہیر اور فیض آئے چلے گئے مگر انھوں نے حکومت کی بے بسی پر گلہ کرتےے ہوئے کہا کہ عمران بدستور موجود ہے، وزیراعظم صاحب آئین توڑا گیا، کیس فائل کریں۔دو وزرائے اعظم کیخلاف ایک ادارہ سازش میں ملوث رہا۔ اب فیصلہ کیا ہے قانون سازی سے جواب دیں گے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں جمہوری عدم اعتماد کے جواب میں صدر اور سپیکر نے آئین توڑا، اگر آئین توڑا گیا تو کیس فائل کریں۔ جنرل حمید گل اس سلیکٹڈ کو سیاست میں لایا، جنرل فیض نے اسے پروان چڑھایا۔ نااہل اور نالائق وزیراعظم نے ملک کو دہشت گردی اور معاشی بحران میں ڈبویا، عمران خان نے دہشت گردوں کو جیلوں سے رہا کیا اور خیبرپختونخوا میں بسایا۔ انھوں نے اسد عمر اور اعجاز الحق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہ آمروں کے بیٹے آج تحریک انصاف میں شامل ہیں، کسی آمر کے بیٹے کا سیاسی مستقبل ہو ہی نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری نے ملک میں عدالتی آمریت قائم کی، اس کا مقصد جمہوریت کو نقصان پہنچانا اور ہائبرڈ نظام لانا تھا۔ اس کے بعد ایک اور چیف جسٹس آئے، چیف جسٹس کےپاس کہاں اختیار ہے کہ وہ بیرون ملک جائے اور ڈیم کیلئے پیسے اکٹھے کرے۔ یہ فرعون کی طرح بیٹھ کر مرضی کی آئین کی تشریح کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بس بہت ہوگیا کچھ آئن سٹائن ایسے فیصلے کرتے ہیں جو گلے پڑ جاتے ہیں۔ایسا نہیں ہو سکتا آئین توڑا جائے اور ہم خاموش رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کی، ہم نے آمروں کا مقابلہ کرکے جمہوریت کو مضبوط کیا، سوچنا ہو گا ملک میں پیدا ہونے والے بحران کا ذمہ دار کون ہے۔ جمہوریت کی خاطر خاموش ہونا ضروری نہیں۔