عارف علوی جب صدر مملکت تھے تب بھی ان کی پوری کوشش رہی کہ فوج ،حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات میں تلخی کم ہو اور بہتری آئے مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے – اب اپنے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد ان کے بیانات میں شدت آگئی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ریاست کے سربراہ ہونے کے باوجود ان کی بات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا -تاہم وہ آج بھی اسی بات کو دہرا رہے ہیں کہ معاملات کو بیٹھ کر حل کریں کیونکہ اس ضد اور انا کی سزا عوام اور پاکستان کو مل رہی ہے –
سابق صدر مملکت اور پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ میں قیدی نمبر 804 کی طرف سے وعدہ کرتا ہوں وہ بدلہ نہیں لے گا بلکہ درگزر کرے گا۔” آئی این پی ” کے مطابق سابق صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب بھی وقت ہے تباہ کن ضد اور نفرت چھوڑیں، امن اور انصاف کی طرف قدم بڑھائیں۔ شیریں مزاری جھوٹ نہیں بولتی ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ حقیقت ہے اور میں خود ان سے یہ روداد سن چکا ہوں، بڑے افسوس اور بڑی شرم کی بات ہے جنہوں نے یہ کیا وہ کون ہیں؟
سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں کس کی مذمت کروں؟گمراہی3 اقسام کی ہوتی ہے، پہلی راستہ جان بوجھ کے غلط پکڑا، دوسری راستہ بھول گئے اور گم ہو گیا، تیسری اب پریشانی ہے لیکن انا بیچ میں رکاوٹ ہے کہ واپس کیسے جائیں، لیکن اب بھی وقت ہے کہ تباہ کن ضد اور نفرت چھوڑیں، امن اور انصاف کی طرف قدم بڑھائیں میں قیدی نمبر 804 کی طرف سے وعدہ کرتا ہوں وہ بدلہ نہیں لے گا بلکہ درگزر کرے گا اور حل نکل آئے گا۔خدا کرے کہ دانش وروں ،نیوٹرل صحافیوں اور سابق سدر مملکت کی بات کو بڑے سنیں اور ان کے مشوروں پر عمل کریں تاکہ ملک اس گرداب سے نکلے –