نواز شریف کے دیرینہ ساتھیوں مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی نے نئی جماعت عوام پاکستان کی بنیاد رکھ دی -مگر اس وقت ان کی پارٹی عوام میں پزیرائی حاصل کر پائے گی یہ سوال اکثر صحافی ان سے پوچھتے ہیں مگر انہیں یقین ہے کہ ان کی اپنی سابقہ نون لیگ سے مایوس بہت سے رہنما اور تحریک انساف سے الگ ہوجانے والے سیاستدان ان کی پارٹی جوائن کریں گے –
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے عوام پاکستان پارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظام بدلنے کے لیے نئی سیاسی جماعت بنائی ہے، یہ ملک ایسٹ انڈیا کمپنی چلارہی ہے جو مڈل کلاس طبقے کو ما ررہی ہے ۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کیا یہ نظام پاکستان کو آگے نہیں بڑھنے دیتا، بجٹ میں نوکری پیشہ افراد پر ٹیکس دگنا کردیاگیا۔ پاکستان نظام درست نہ ہونے کے سبب دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے، ایک وقت تھا پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے امیر ملک تھا، یہ شکاری اور شکار کا نظام ہے، آج ہم بنگلادیش، ہندوستان اور نیپال سے پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عام پاکستانی ایک شکار ہے، یہ پاکستان اب ہمیں منظور نہیں ہے، قائد اعظم نے پاکستان اس لیے آزاد نہیں کیا کہ ہم جہالت میں قید رہیں، ملک میں شکاری اور شکار کا نظام ہے،مگر ہم نوجوانوں کو مایوس دیکھنا نہیں چاہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے اس لیے پاکستان آزاد نہیں کرایا تھا، کہ پاکستانی جہالت اور بھوک کی قید میں رہیں، اب عام لوگوں کو سیاست میں آنا ہے، یہ ظالم حکمران ہمیں زندگی کا تحفظ بھی نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ نے حکمرانوں کی ترجیحات واضح کردی ہیں، نئی پارٹی اس لیے بنائی کہ یہ نظام صرف اشرافیہ کے کام آتا ہے، ہم سب حکومت میں رہے ہیں اور آج بھی وزیر بن سکتے ہیں، اس وزارت کا کوئی فائدہ نہیں جس میں آپ کام نہ کرسکیں۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ یہ ایک سوچ ہے ، عام آدمی کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے بغیر سیاست نہیں ہو سکتی، ہم سے اشاروں کنایوں میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسٹبلشمنٹ ساتھ ہے ؟، اگر سیاست صرف اقتدار کیلئے ہی ہو تو اس کا حصہ نہیں رہ سکتے ،یاد رکھیں فارم 47 والے ملک نہیں بنا سکتے۔
’ عوام پاکستان پارٹی ‘ کے بانی چئیرمین شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو ملک کی نہیں صرف اپنی کرسی کی فکر ہے بلکہ انہیں ہر صورت میں اقتدار چاہیے، آج ہمیں اپنے اقتدار کی پرواہ ہے ملک کی نہیں ،الیکٹیبل سیاست کا حصہ ہیں لیکن ہر الیکٹیبل قابل قبول نہیں ، ہم نے ابھی کسی کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت نہیں دی ہے ، جس سیاستدان کی شہرت ٹھیک نہیں ہے وہ اس جماعت کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان میں جماعتیں مخصوص مقاصد کیلئے بنتی رہی ہیں، ہم ہر اچھے برے وقت میں ایک جماعت کا حصہ رہے ،اگر سیاست صرف اقتدار کیلئے ہی ہو تو اس کا حصہ نہیں رہ سکتے ،یاد رکھیں فارم 47 والے ملک نہیں بنا سکتے ۔
شاہد خاقان عباسی کا کہناتھا کہ صنعت کی مشینری ایک سو انیس کلو پر بک رہی ہے، دود ھ پر ٹیکس لگا دیا گیا، وزیر خزانہ کی تقریر سن لیں یا کسی وزیرکی ، کسی بھی رہنما نے پاکستان کے عوام کی تکلیفوں کی بات نہیں کی ، عوام پاکستان پکی پکائی جماعت نہیں ہے یہ ایک سوچ ہے ، عام آدمی کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے بغیر سیاست نہیں ہو سکتی، ہم سے اشاروں کنایوں میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسٹبلشمنٹ ساتھ ہے ؟ آج ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو اقتدار کی کرسی تلاش نہ کریں، آج ہم تباہی کے دہانے پر ہیں پھر بھی معمول کے مطابق ملک چلانا چاہتے ہیں۔