الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج کیا گیا محفوظ فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخابات 16اکتوبر کو ہی کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو ہی ہونگے ۔اس کے بعد نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا شدید امتحان شروع ہوگیا ہے کیونکہ سیلاب کے بعد سندھ اور بلوچستان مین سیاسی صورتحال بہت ھد تک تبدیل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جس کا بھرپور فائدہ پی ٹی آئی اٹھا سکتی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد سندھ اور وفاقی حکومتیں کیا قدم اٹھاتی ہیں
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت ضمنی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اہم اجلاس ہوا،اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ممبران اور اعلیٰ افسران شریک ہوئے،اجلاس میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے علاوہ سیکرٹری داخلہ و دفاع، ڈی جی ایم او اور ڈی آئی جی ایف سی بھی شریک ہوئے -یاد رہے کہ ان ضمنی انٹخابات میں عمران خان قومی اسمبلی کی 8 نشستوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں -اگر عمران خان 5 یا اس سے زائید سیٹوں پر انتخاب جیت گئے تو یہ حکومت کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہوگا
الیکشن کمیشن کا کہناہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے کرم کے علاوہ تمام حلقوں میں ماحول پرامن ہے اس لیے وہاں انتخابات اسی تاریخ کو ہی ہوں گے البتہ کرم ایجنسی میں ضمنی انتخاب کی تاریخ کا اعلان امن وامان کی صورحال کی بحالی کے بعد کیا جائے گا