درخت اور جنگلات کا کیا فائدہ ہوتا ہےماحول پر اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟

Open book in paper recycling concept - 3d rendering

دنیا بھر میں جتنی تیزی سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اتنی ہی روزمرہ کی اشیا کی طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے انسان کی سب سے پہلی ضرورت خوراک ہے جس میں گوشت اور غلہ ،سبزی اور پھل شامل ہیں گوشت تو ہمیں جانوروں جن میں مچھلی مرغ گائے بکرے وغیرہ شامل ہیں ان حیات سے مل جاتا ہے جبکہ باقی تمام خوراک ہمیں جنگلات اور درختوں اور پودوں سے حاصل ہوتی ہے

IMAGE SOURCE : UNEP

جیسے جیسے آبادی بڑھتی جارہی ہے جنگلاٹ کاٹے جارہے ہیں درخت کٹ رہے ہیں اور انکی لکڑی کو استعمال بھی کیا جارہا ہے اور حرارت کے لیے جلایا بھی جارہا ہے پاکستان میں بھی یہی معاملہ ہے مگر درختوں کو کاٹنے سے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے گلیشئر پگھلنے سے سیلاب آتے ہیں جنگلی حیات کم ہوجاتی ہے شہد کی مکھیاں کم ہونگی تو شہد کم پیدا ہوگا اسی طرح پرندوں اور جانورون کی نسل کم ہونے سے خوراک کی کمی کا سامنا ہوگا

جنگلات ماحول کے لیے آکسیجن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور کسی علاقے میں موجود جانداروں کی بقا کو یقینی بناتے ہیں۔

پاکستان اپنے جنگلات کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور ملک کا تقریبا٪ 4 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ پاکستان کا جنگلاتی شعبہ لکڑی ، کاغذ ، ایندھن کی لکڑی ، لیٹیکس اور ادویات کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جنگلات جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی ماحول فراہم کرتے ہیں۔

ایف اے او 2007 کے مطابق ، زیادہ استعمال کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی 0.75 فیصد سالانہ کی شرح سے ہو رہی ہے۔ قدرتی جنگلات کی کٹائی کی اوسط شرح 27،000 ہیکٹر ہے۔ یہ معلومات Landsat پر مبنی جنگلات کے جائزے کے اندراج کردہ حقائق کے مطابق بیان کی گئی ہے۔ پاکستان میں جنگلات کے زیر قبضہ زمین 1990 میں 3.28 فیصد سے 2015 میں 1.91 فیصد رہ گئی ہے۔ درختوں کی افزائش کی شرح موجودہ کاٹنے کی شرح سے کم ہے جس پر وہ لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم ، نئی حکومت جنگلات کی کٹائی کے اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ درخت لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ رہنے کے لیے بہتر ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ 5 سال کی مدت کے دوران ، پاکستان کی نئی حکومت (پی ٹی آئی) نے ایک 10 ارب سے زائد درخت لگانے کا ہدف یہ عمل گلوبل وارمنگ اور جنگلات کی کٹائی کو کم کرنے میں مدد دے گا۔

دنیا میں ہر سال ماحولیات کا دن منایا جاتا ہے پاکستانی عوام کو بھی سیاحت کی طرف مائل کرنے کے لیے میڈیا اور سوشم میڈیا کے ذریعے آگاہی دینا چاہیے تاکہ لوگ سیاحتی مقامات کی سیر کی جانب راغب ہوں اور تفریھ کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کی بحالی کا اہتمام بھی کرپائیں

جن علاقوں میں درخت زیادہ ہوتے ہیں وہاں بارش زیادہ برستی ہے فصلوں کو پانی ملتا ھے درخت زندگی کا بڑا ذریعہ ہیں اس لیے ان سے پیار کریں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اس سے ماحول بھی صاف ہوگا اور صحت بھی بہتر ہوگی

Related posts

دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

نئی دہلی میں جون میں شدید ترین بارش کا 88 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

بنگلا دیش میں ہیٹ ویو کا 76 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا