ملک میں عام انتخابات کے بعد نون لیگ نے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی مگر ملکی معیشت کے حالات دیکھتے ہوئے تحریک انصاف نے یہ رسک مول لینے سے انکار کردیا تھا جس پر نون لیگ کو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑی مگر اب روز بروز حالات ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جارہے ہیں اس بات کا اندازہ ان بعض مسلم لیگی رہنماؤں کو بھی ہے جن کو الیکشن میں شکست ہوگئی تھی اسی لیے اب وہ اس پر پریشان نہیں بلکہ خوش دکھائی دے رہے ہیں
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماءجاوید لطیف کا کہنا ہے کہ حکومت گرنے کی فکر اس کو ہوتی ہے جس نے حکومت خود بنائی ہو، ہم تو حکومت بنانا ہی نہیں چاہتے تھے تو حکومت گرنے کا کیا خوف ہے،جب تک یہ اسمبلی رہے گی کوئی اتحادی اِدھر ادھر نہیں ہوگا،جس جماعت کے پاس سادہ اکثریت نہ ہو اور مدت پوری کرے تو ارینجمنٹ ہے۔
ا ے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءمسلم لیگ نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔ دونوں جماعتیں احتیاط کریں ایسا نہ ہو کل کو میڈیا شرمندہ کر رہا ہو۔ جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دھڑے بندی سیاسی جماعتوں میں نہیں ہوتی بلکہ سیاسی جماعتوں میں کھل کر بات ہونی چاہیے۔ انھون نے نواز شریف کی 2013 میں بننے والی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تو دو تہائی اکثریت کے باوجود آزادانہ پالیسیاں نہیں بنانی دی جاتی تو بیساکھیوں پر کیسے ملک کو نکال سکیں گے؟۔ انھون نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی گزرے ایک سال ہوگیا لیکن آج تک ذمہ داروں کو سزا نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کےلیے عدالتوں میں سہولت کاری موجود ہے اس لئے سزا ہوتے نہیں دیکھ رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے تو حکومت بنانے سے انکار کر دیا تھا لیکن شہباز شریف نے حکومت بنانے کا چیلنج قبول کیا اور اقتدار میں آئے۔ اتحادی جماعتیں حکومت کا حصہ بھی ہیں اور مزے بھی لے رہی ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ حکومت کی ناکامی پر کہیں ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ حکومت کا حصہ ہیں تو ناکامی کے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔
حکومت گرنے کی فکر اس کو ہوتی ہے جس نے حکومت بنائی ہو ؛جاویدلطیف
30