سائنس دان اس صدی مین وہ وہ کام کررہے ہیں جو گزشتہ کئی ہزار سالوں میں نہیں ہوئے تھے -لگتا یہی ہے کہ انہی سائنس دانوں کی بدولت اللہ پاک قیامت برپا کردے گا -کیونکہ اگر جوہری جنگ شروع ہوگئی اور میزائل پٹھنا شروع ہوگئے تو زمین اپنے مدار سے نکل کر کسی بھی سیارے سے ٹکرا سکتی ہے جس سے قیامت برپا ہوجائے گی -اب سائس دانوں نے سورج سے بھی زیادہ حرارت پیدا کرنے والا سورج لیبارٹری میں تیار کرلیا -تاہم اللہ کا بنایا سورج لاکھون سالون ست دنیا کو روشنی اور حرارت مہیا کررہا ہے جبکہ سائندس دانونں کا سورج ایک منت بھی کام نہیں کرپاتا اور غروب ہوجاتا ہے –
جنوبی کوریا کے مصنوعی سورج کے -سٹار’KSTAR‘نے مسلسل 48سیکنڈ تک 10کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ حرارت پیدا کرکے عالمی ریکارڈ قائم کر ڈالا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق کوریا فیوژن انرجی انسٹیٹیوٹ (کے ایف ای) کے سائنسدانوں کا ہدف اس جوہری ری ایکٹر کو 10کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ پر ممکنہ عرصے کے لیے چلانا ہے۔ یہ درجہ حرارت سورج کے مرکزے سے 7گنا زیادہ ہے۔
اس سے قبل مصنوعی سورج کو اس درجہ حرارت پر 30سیکنڈز تک چلانے کا ریکارڈ 2021ءمیں اسی ادارے کے سائنسدانوں نے قائم کیا تھا۔ اب انہوں نے اپنا ہی سابقہ ریکارڈ توڑڈالا اور اس مصنوعی سورج کو 48سیکنڈز تک چلانے میں کامیاب رہے ہیں۔کے ایف ای کے ڈائریکٹر سی وویون کا کہنا ہے کہ اس قدر گرمی کو مستقل برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس حوالے سے یہ تازہ ریکارڈ بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ ہم 2026ءتک اس ری ایکٹر کو مسلسل 300سیکنڈز تک چلانے کا ہدف رکھتے ہیں۔لگتا یہی ہے کہ اس سورج کو گھنٹوں استعمال کرنے کے لیے صدیاں درکار ہیں –
جنوبی کوریا کے سائیس دانوں نے مصنوعی سورج ایجاد کرلیا
26
previous post