پاکستان میں اس وقت مہنگائی نے جو عوام کی حالت کردی ہے اس پر ہر پاکستانی مشکلات کا شکار ہے وہ جو کماتا ہے ٹیکسز میں چلاجاتا ہے اب ملک میں تاجر ،سرکاری ملازمین ، نوکری پیشہ افراد سب حکومت کو کوس رہے ہیں اور ہر طرف مرگئے مرگئے کی آوازین سنائی دے رہی ہیں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور عوام حکومت کو احتجاج کی دھمکیاں دے رہے ہیں – ایسے میں جماعت اسلامی نے بھاری ٹیکسز اور مہنگی بجلی و گیس کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک میں اس وقت شدید بحران ہے ، بجلی کے بلوں نے سب کو تڑپنے پر مجبور کردیا ہے۔لوگ اپنے زیورات بیچ کر بجلی کے بل ادا کررہے ہیں۔کل گیس اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ان حالات میں اپنی قوم کو اس وقت تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ 12 جولائی کو مہنگائی اور بھاری ٹیکسز کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک گیر ہڑتال پر غور کررہے ہیں۔ ہم عوامی حمایت سے حکومت کو ظالمانہ ٹیکس ختم کرنے پر مجبور کردیں گے۔ پیٹرول و گیس کی قیمت میں اضافہ کیا پھر آئی ایم ایف کے ٹیکسز لائے جا رہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فری پیٹرول و بجلی لینے والے جرنیل فوجی افسران ججز کہتے ہیں کہ ہم مراعات نہیں لیں گے۔ محدود طبقہ ترقی کررہا ہے اور مڈل کلاس فارغ ہوگئی ہے۔ دو، تین لاکھ روپے والا تنخواہ دار طبقہ سخت پریشان ہے اگر اس کا ٹیکس کٹے گا تو وہ کیسے پورا کرے گا۔ یہ عوام کو مزید ٹیکسوں کے نیچے دبانا چاہتے ہیں۔ جاگیر داروں سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جا رہا۔ بڑے لوگ مزے کررہے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں جو ٹیکس ہے پیٹرول پر جو لیوی لگی ان کا پیٹ بھریں گے جو پہلے ہی اربوں روپے کھا گئے ہیں۔ حکومت کوکوئی شرمندگی ہے۔ وزیراعظم فخر سے کہتے ہیں آئی ایم ایف سے مل کر بجٹ بنایا ہے۔حکومت ذہنی پسماندگی اور غلامی میں مبتلا ہو چکی ہے۔تمام دانشور اور سیاستدان حکومت اور طاقت ور طبقے کو سمجھارہے ہیں دانشمندانہ فیصلے کریں مگر لگتا یہی ہے کہ آنے والے دن یا حکومت کے لیے عزاب بننے والے ہیں یا عوام کے لیے –
جماعت اسلامی کا 12 جولائی کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان
31