پاکستان میں پینشن کے لیے جتنی رقم ہر ماہ دی جاتی ہے اتنی رقم تمام حاضر سروس ملازمین کو بھی نہیں ملتی اسی لیے پنشن کے حوالے سے ہر حکومت نظر ثانی کی کوشش کرتی رہی ہے مگر عوامی ردعمل کے پیش نظر کسی بھی حکومت کی اس مسئلے کو چھیڑنے کی ہمت نہیں ہوئی مگر اب حالات اتنے خراب وگئے ہیں کہ پنشنرز پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جو آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے بہت مسئلہ پیدا کرسکتا ہے -آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشنرز پر ٹیکس کی تجویز پیش کر دی گئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ میں پنشرز پر ٹیکس پر غور کرنا شروع کردیا۔
آج نیوز کے ذرائع کے مطابق ٹیکس نیٹ کو بڑھاتے ہوئے ایک لاکھ کے برابر یا اس سے زیادہ پنشن وصول کرنے والوں پر دس فیصد ٹیکس کی تجویز زیر غور ہے۔پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے بھی بجٹ تجاویز میں کہا ہے کہ تمام آمدنیوں پر ٹیکس لگایا جائے، ایک لاکھ سے زائد پنشن ہولڈر پر 10 فیصد ٹیکس لگایا جائے۔ دوسری جانب ٹیکس بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس سے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، علاوہ ازیں غیرمنقولہ جائیداد کی ہولڈنگ کی مدت واپس لی جائے اور ہر فروخت اور خریداری کے لین دین پر کیپٹل گین ٹیکس نافذ کیا جائے۔خدا کرے کہ ایک لاکھ سے کم پینشن لینے والوں پر ٹیکس عائید نہ ہو ورنہ لاکھوں پنشنر سڑکوں پر نکل آئیں گے -ایک لاکھ روپے سے زائید پنشن پر 10 فیصد ٹیکس عوام کو قابل قبول ہوگا –